شوگر کی بیماری کا علاج اب بغیر انسولین اور داوائیوں کے ممکن ہے

آ ج کل شوگر ایک بہت عام طور پر سامنے آ رہی ہے۔ شوگر ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سے سب سے زیادہ عام وجہ ہمارا غیر مناسب طرز ِ زندگی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دوسرے گھر میں شوگر کا مریض پایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ شوگر کے علاج کے لئے انسولین اور دیگر ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔ درحقیقت شوگر ایک بیماری نہیں ہے بلکہ یہ بیماریوں کی جڑ ہے اور اپنے ساتھ کئی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔

آج ہم آپ سے اُن تمام طریقوں کے بارے میں ماہرانہ رائے دے کے بات کریں گے جس سے بغیر انسولیشن اور داواؤں کے شوگر کافی حد تک کنٹرول کر سکتے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ شوگر باآسانی کچھ ورزش اور خوراک سے کنٹرول کی جا سکتی ہے۔ آج ہم آپ سے وہی طریقے شیئر کریں گے جس کی وجہ سے آپ بھی باآسانی گھر بیٹھے شوگر کو کافی حد تک کنٹرول کر سکتے ہیں۔

ایک میڈیا کا انٹرویو دیتے ہوئے زاہد عرفان نے بتایا جوکہ مشہور زیابیطس ریورسل کوچ ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ان کو 2016 میں کافی اونچے درجے کی شوگر ہوئی تھی اور مسلسل 3سال وہ انسولین پر رہے ہیں۔ زاہد عرفان نے بتایا کہ شوگر ایسی مہلک بیماری ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے اور اپنے ساتھ کئی اور بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ شوگر میں مبتلا مریض کا بلڈ پریشر بھی بڑھنے لگ جاتا ہے، اس کا کولیسٹرول بڑھنے لگتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ مریض کو کافی دل کے مسئلے ہوجاتے ہیں، کڈنی کا فیل ہونا بھی شوگر ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اکثر تحقیقات میں یہ بات آتی ہے کہ شوگر ایک بڑی بیماری ہے جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے جسم کے باقی حصوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

زاہد عرفان نے بتایا کہ شروع میں انکی شوگر 525 سے بھی اوپر رہا کرتی تھی انھوں نے کافی دوائیں استعمال کیں اورانسولین بھی لگوائی۔زاہد عرفان نے بتایا کہ انھوں نے مسلسل 3سال دوائیں اور انسولین لگائی۔ دواؤں اور انسولین سے تنگ آکر انھوں نے شوگر کے متعلق پڑھنا شروع کیا۔ انھوں نے بتایا کہ مارچ 2020 میں انھوں نے آخری دفعہ انسولین لگائی اور دوائی لی۔

زاہد عرفان نے میڈیا پرسن کو بتاتے ہوئے کہا کہ اب وہ انسولین اور دوائی نہیں لیتے اور انکا شوگر لیول بھی کنٹرول رہتا ہے اس کے پیچھے صرف ان کا بیلنسڈ لائف سٹائل ہے۔

زاہد عرفان نے بتایا کہ شوگر بہت پرانی بیماری ہے اور کافی سال پہلے تو اس کے بارے میں علم بھی نہیں تھا جب تحقیقات میں یہ بات آئی کہ انسولین سے شوگر کا علاج ممکن ہے تو لوگوں نے ایسی دوائیاں بنانا شروع کردیں جن سے انسان کا لبلبہ اتنی انسولین بنائے جتنی انسان کے جسم کو چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ شدید قسم کی شوگر کے لئے ڈائرکٹ انسولین لگوانا بھی قابلِ مثبت علاج سمجھا گیا۔ اصل میں انسولین پر ایک تھیوری 1989میں آئی جس میں یہ بات آئی کہ شوگر انسولین کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ انسولین ریزسٹنٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مطلب انسولین انسان کے جسم میں صحیح کام نہیں کر رہی ہوتی۔ گلوکوز خون سے جسم کے خلیوں تک لے جانے کا کام انسولین کرتی ہے۔ اور وہ یہی کام صحیح سے نہیں کر رہی ہوتی۔

زاہد عرفان نے بتایا کہ کیسے ہم ایک متوازن طرزِ زندگی سے شوگر کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ میٹھا کھانا چھوڑ دیتے ہیں جبکہ اپنی ڈائیٹ کا بالکل خیال نہیں رکھتے۔ زیادہ تر جو شوگر ہوتی ہے وہ زیادہ اور بار بار کھانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہمارا غیر متوازن لائف سٹائل ایک بڑی وجہ ہے شوگر ہونے کی۔

شوگر کے مریض کو اپنی غذا کا کافی خیال رکھنا چاہیے اسے 2مرتبہ کھانا چاہیے اور دھیان رکھ کے کھائے کہ وہ کتنا اناج لے رہا ہے۔ رات کو مغرب کے بعد وہ کھانے کا استعمال نہ کرے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی روز مرّہ کی ورزش کرے۔

Spread the love
کیٹاگری میں : صحت

شوگر کی بیماری کا علاج اب بغیر انسولین اور داوائیوں کے ممکن ہے“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں