پنکھے کی مٹی آپ کے پھیپھڑوں کو خراب کرسکتی ہے ۔۔ جب پنکھے پر اتنی دھول ہے تو پھیپھڑوں میں کتنی مٹی ہوگی؟

فضا میں موجود کیمیائی گیسوں نائٹروجن، کاربن مونو آکسائیڈ، مٹی کے ذروں اور دوسرے ننھے ذرات کو ’پارٹیکولیٹ مَیٹر‘ کہا جاتا ہے، فضا میں موجود ان کی مقدار سے فضائی آلودگی کے تناسب کو ناپا جاتا ہے۔ فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے مہلک ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ہر سال پاکستان میں فضائی آلودگی کی وجہ سے 22 ہزار افراد جاں بحق جبکہ 4 کڑور سے زائد افراد سانس کی بیماریوں (رسپائریٹری انفیکشنز) کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کئی افراد میں فضائی آلودگی کی وجہ سے ہر وقت تھکن، سانس لینے میں دشواری اور طبیعت میں بے چینی اور چڑچڑاہٹ بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

پنکھے کو دیکھ کر اچانک مجھے خیال آیا کہ جب گھر کے پنکھے پر اتنی گرد ہے تو پھیپھڑوں میں کتنی جاتی ہوگی۔ یہی سوچتے ہوئے میں نے محکمہِ تحفظ ماحولیات کی ویب سائٹ کھول لی جہاں سب اچھے کی رپورٹ تھی۔ پی ایم کی مقدار 39 سے بھی کم بتائی گئی تھی۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ اگر فضا میں آلودگی نہیں تو میرے پنکھے پر اتنی کالک اور کاربن کہاں سے آئی۔ امریکی سفارتخانے میں نصب فضائی آلودگی جانچنے کے مرکز کا ڈیٹا دیکھا تو معلوم ہوا کہ پی ایم اچھا خاصا بڑھا ہوا ہے۔ 7 اکتوبر کو تو یہ 62 سے بھی تجاوز کرگیا تھا۔

پنکھے پر جمی میل، دھول مٹی کو جتنا جلدی ہوسکے صاف کرلیا جائے یہ پھیپھڑوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت سستا اور اہم اقدام ہے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں