اقرار الحسن کی رو رو کر اپنی قوم سے معافی کی اپیل

اقرار الحسن کی رو رو کر اپنی قوم سے معافی کی اپیل، عائشہ اکرام اور رینبو کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی حکومت سے درخواست:

اقرار الحسن پاکستان کے مشہور تجزیہ نگار ہیں انھوں نے ARY News کے ساتھ کافی عرصہ کام کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کی ایک ایسی ٹویٹ اور ویڈیو وائرال ہوگئی ہے جو آج کل ہر شوشل میڈیا پلیٹ فارم کی زینت بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنی اس ویڈیو میں نہایت ہی غمگین ہو کر اپنی قوم سے معافی مانگی ہے۔ ہاں جی انھوں نے اپنی قوم سے معافی اس لیے مانگی کہ انھوں نے مینارِ پاکستان کے واقعہ کے بعد مشہور ہونے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کو سپورٹ کیا۔

آپ لوگ مینارِ پاکستان کے واقعہ کے بارے میں تو جانتے ہی ہیں کہ کیسے اس واقعہ کے بعد عائشہ اکرام جو کہ ٹک ٹاکر ہیں کافی سرخیوں میں رہ رہی ہیں۔ اقرار الحسن نے ٹویٹر پر ٹویٹ کیا کہ:
]میں معافی مانگتا ہوں کہ میں نے عائشہ اکرام کا ساتھ دیا جس نے خود کو سرِعام برہنہ کرنے والوں سے سودے بازی شروع کردی۔ خداِ واحد کی قسم یہ ضد نہیں تھی، میں حقیقت میں سوچتا تھا کہ عائشہ کے ساتھ غلط ہوا اس کا ساتھ دینا چاہیے لیکن اس نے تو اپنی عزت ہی بیچ ڈالی۔[

اقرار الحسن نے یاسر شامی کی طرف سے بھی قوم سے معافی مانگ لی جو آج کل ڈینگی بخار کا شکار ہیں جنہوں نے عائشہ اکرام کو گرفتار کرنے کی اپیل کی تھی۔

اقرار الحسن نے اپنی ویڈیو میں نہایت ہی افسردہ ہو کر کہا کہ میں اپنے ملک پاکستان سے بہت پیار کرتا ہوں میں اسی ملک میں مروں گا اور اسی قوم کی خدمت کرتے ہوئے مرجاؤں گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں آخری سانس تک پاکستان کی بہتری کی کوشش کرتا رہوں گا۔ پاکستان کو بدنام کرنے کی کسی کی اوقات نہیں۔ میرا کام تھا واقعہ کو رپورٹ کرنا اور میں نے دیانت داری سے واقعہ کو رپورٹ کیا۔ لیکن ہوس اور لالچ کے آگے سب کچھ ختم کردیا عائشہ آپ نے۔

اقرار الحسن نے ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ اگر آپ کو پیسے چاہیے تھے تو میں آپ کو پیسے دیتا آپ مجھے کہتی تو سہی۔ آپ نے مجھے میسج کر کے بھی کہا تھا کہ اقرار بھائی شکریہ آپ کا آپ نے میرا ساتھ دیا جب کہ سارے لوگ میرے خلاف ہیں۔ اقرار الحسن نے کہا کہ مجھے لگا کہ بیچاری لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے اس کو انصاف دلوانہ چاہیے۔ میں نے عائشہ اکرام کو بہن کہا اس کے سر پر ہاتھ رکھا لیکن اس نے اپنے بھائی کو ذلیل کروا دیا۔

اقرار الحسن نے مزید کہا کہ میں نے عائشہ اکرام کا ساتھ دینے پر بہت سی تنقید بھی برداشت کی۔ میں نے اس کیس میں شامل لوگوں کو گرفتار بھی کروایا لیکن افسوس عائشہ اکرام آپ کو کسی بات کا پاس نہیں رہا۔ آپ تو اپنے ساتھی رینبو کے ساتھ مل کے لوگوں کو بلیک میل کر رہی ہیں اور ان سے پیسے وصول کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

اقرار الحسن نے مزید کہا کہ میں پچھلے 10-8سال سے پاکستان کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہوں اور آگے بھی کرتا رہوں گا۔ انھوں نے کہا کہ میں عائشہ اکرام والے معاملے کی تحقیق کرسکتا تھا لیکن تحقیق میں سب سے اہم سوال ویڈیو ہوتا ہے اور ویڈیو ہمارے سامنے تھی۔ جس میں عائشہ اکرام کے ساتھ مینار پاکستان کے مقام پر نہایت ہی غیر مناسب حرکت ہوئی۔

اقرار الحسن نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ اس معاملے کے بعد اب عائشہ کو بھی گرفتار کرنا چاہیے انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ عائشہ اور رینبو کا فون نکلوا کے میرے اور یاسر شامی کے خلاف کوئی بھی ثبوت نکال لیں تو میں آج ہی اپنا استعفیٰ دے دوں گا۔ مجھے صرف اس بات کا افسوس رہے گا کہ میں نے آپ کو بہن سمجھ کر آپکی مدد کی لیکن آپ نے میری عزت کا پاس تک نہیں رکھا۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں