بے نمازی کو نمازی بنانے کا وظیفہ

بے نمازی کو نمازی بنانے کا وظیفہ:

آج ہم آپ کو ان لوگوں کے لیے ایسا وظیفہ بتائیں گے جن کا نماز میں دل نہیں لگتا یا نماز پڑھنے کا دل نہیں کرتا۔ ایسے بھائی اور بہنیں جو نماز سے دوری کی زندگی گزار رہے ہیں وہ اس وظیفہ کو ضرور پڑھیں۔ اور جن لوگوں کو عبادت میں لذت نہیں آتی اور وہ اللہ کی محبت اور اطاعت اپنے دل میں کیسے بٹھا سکتے ہیں اس کا بھی طریقہ بتائیں گے۔ آپ جب بھی کوئی دین کا درس اور اولیاء اللہ کے واقعات سنتے ہیں تو آپ کا دل چاہتا ہے کہ آپ بھی ان جیسے بن جائیں۔ اور جب آپ قرآن پاک کی تلاوت سنتے ہیں تو آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اپنی موت یاد آجاتی ہے۔

لیکن جب ایک دو گھنٹے گزر جاتے ہیں تو آپ کے دل کی کیفیت پھر ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسے پہلے تھی۔ نمازوں میں سستی ہونے لگتی ہے اور دوسرے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہوں۔ اور آپ کو ایسا لگتا ہے کہ کہیں آپ مرتد نہ ہوجائیں۔ اور دین سے دوری نہ اختیار کر لیں۔ اور ا س طرح کے دیگر شکوک و شبہات آپ کے ذہن کو الجھا دیتے ہیں۔ آج جو عمل پیش کیا جارہا ہے اس مختصر سے عمل سے آپ کی تمام الجھنیں دور ہو جائیں گی اور آپ کا دل نماز میں لگنے لگے گا اور نماز پڑھنے کو دل بھی کرے گا۔ نماز میں دھیان اور خشوع و خضوع بھی حاصل ہوجائے گا۔ اس مختصر سے عمل کے فائدے بہت زیادہ ہیں۔

ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے میری یہ کیفیت تھی کہ جب بھی میں دوستوں کے ساتھ کبھی باہر ہوتا تو میرا دل کرتا کہ کب میں گھر جاؤں گا اور دو رکعت نماز ادا کروں گا۔ میں نماز سے بے حد محبت کرتا تھا۔ اب میں اپنی پہلے والی حالت پر واپس آنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہوں۔ اور اب میں نماز پڑھتے وقت جلد بازی سے کام لیتا ہوں اور دن بدن دین سے دوری ہوتی جارہی ہے۔ مجھے اس بات پر دلی یقین ہے کہ اسلام دین ِ حق ہے اور مجھے شک ہے کہ جب میری موت آئے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے دل میں اسلام کے بارے میں کسی قسم کا شک موجود ہو۔ اور میرا مذہب اسلام قابلِ قبول نہ ہو۔

خواتین و حضرات اس کا حل یہ ہے کہ آپ کو نیک اور صالح انسانوں کی صحبت میں بیٹھنا ہوگا۔ اور آپ کو کوشش کرنی ہوگی کہ آپ ہر وقت باوضو رہیں۔ یہ تصور رکھے کہ مجھے اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ اپنی موت کو بھی یاد کرتا رہے۔ جنت اور دوزخ کا ذکر سنتا رہے اور خود بھی دوسروں کے سامنے کرتا رہے۔ اس کسی ایسے شخص سے رابطہ قائم کرے جو نیک اور صالح ہو۔ اور نماز میں جو چھوٹی چھوٹی سورتیں آپ پڑھتے تھے تو اب کوشش کریں کہ کچھ بڑی سورتیں بھی پڑھیں اور ہر رکعت میں سورتیں بدل بدل کر پڑھیں ایک یا دو سورتوں پر ہی اکتفا نہ کریں۔ رکوع، قیام اور سجود جتنا ہو سکے لمبا کریں اس سے آپ کو ایک تو خصوع اور خضوع حاصل ہوجائے گا اور آپ کی بہت سے جسمانی بیماریاں بھی دور ہوجائیں گی۔ نماز میں پورے دھیان سے کھڑے ہوں اور جب بھی دھیان بھٹکے تو یہ تصور کریں کہ میں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کھڑا ہوں جو دلوں کی باتیں جانتا ہے۔ آنحضور ﷺ حضرت بلال ؓ سے فرمایا کرتے تھے کہ نماز کے ذریعے راحت کا سامان پیداکروایسی راحت جو دنیا کی مصیبتوں اور غموں سے بے نیاز کر دے۔ نماز میں اس طرح دوڑ کر آئیں جیسے بچہ اس کی طرف دوڑتا ہے جو اس سے پیار کرتا ہے اور اس سے جا کر گلے ملتا ہے۔ آ پ آئیں اور سجدہ کریں اللہ کی رحمت آپ کو گلے لگائے گی۔ سجدہ میں انسان اللہ تعالیٰ کے بہت نزدیک ہوتا ہے۔ کوشش کریں کہ نماز میں آپ جو بھی پڑھ رہے ہوں آپ کو اس کا مطلب اور ترجمعہ بھی آتا ہو۔ تاکہ آپ کو پتہ ہوکہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں۔ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھیں۔ اذان سے پہلے نماز کی تیاری کر کے رکھیں اور جیسے ہی اذان ہو مسجد کی طرف روانہ ہو جائیں اور کوشش کریں کہ اذان سے پہلے ہی مسجد میں موجود ہوں۔

اگر یہ تمام کام کرنے کے بعد بھی آپ کا دل نماز پڑھنے کو نہ کرے تو آپ روزانہ رات کو بستر پر لیٹ کر صرف 101مرتبہ یہ دعا پڑھیں: ”اے اللہ تیرے ذکر، شکراور بہترین انداز میں تیری عبادت کے لیے میری مدد فرما“ آپ یہ عمل اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔ نمازی سے کائنات کی ہر چیز محبت کرتی ہے۔ انسان اگر نماز کے معانی پر توجہ رکھے تو اس کو نماز میں لذت اور سرور حاصل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اور اگر نماز پڑھتے وقت پتہ ہی نہ چلے کہ کیا پڑھا تو پھر یہ لذت مفقود ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کسی نمازی سے پوچھیں کہ اس نے نماز میں کون کون سے سورتیں پڑھی ہیں اور وہ کہے کہ مجھے یاد نہیں تو اس کو نماز کا پورا فائدہ نہ ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں خشوع اور خضوع کے ساتھ نمازیں پڑھنے والا بنا دے۔ آمین۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں