جادو اور نظرِ بد کی چند علامات جو اگر ظاہر ہیں تو آپ بھی ہوشیار ہو جائیں اور محفوظ ہوجائیں

جادو اور نظرِ بد کی چند علامات جو اگر ظاہر ہیں تو آپ بھی ہوشیار ہو جائیں اور محفوظ ہوجائیں:

آج ہم آپ کے ساتھ جادو اور نظرِ بد لگنے کی وجوہات کے بارے میں بات کریں گے۔ آخر کونسی ایسی وجوہات ہیں جن کے پیشِ نظر ہم کہتے ہیں کہ ہم پر جادو یا نظرِ بد لگی ہوئی ہے۔ سب سے پہلے انسان کو یہ جان لینا ضروری ہے کہ جو ہوتا ہے وہ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے، اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ قرآن میں اللہ پاک فرماتے ہیں:
جو مصیبت بھی آتی ہے انسان پر وہ اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ اس کے دل کو سکون بخشتا ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

یعنی جب بھی ایسی کوئی تکلیف انسان کو آئے تو وہ سمجھے کہ یہ میرے اللہ کی طرف سے ہے، اس میں میرے اللہ کی کوئی مصلحت ہے کوئی مقصد ہے اور اگر یہ مشکل مجھ پر آئی ہے تو اسے دور کرنے والا بھی میرا اللہ ہی ہے۔

مومن کے بارے میں عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ مومن وہ شخص ہے کہ جس پر کوئی مصیبت آجائے وہ تب بھی اللہ سے راضی رہتا ہے اور خوش رہتا ہے بلکہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ تو یہ بات یاد رکھیں کہ یہ بیماری، تکلیف سب ہی تقدیر کا حصہ ہیں۔ اللہ پاک نے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہماری تقدیر بھی بنائی۔

جادو اور نظرِبد کیوں ہوتی ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن جو علامات قرآن اور سنّت کی روح سے ہم تک آتی ہیں ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ جب انسان اللہ کے اذکار میں کمی کرتا ہے تو شیطان کو موقع مل جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ ہمیں سردی کیوں لگ جاتی ہے ہم نے صحیح سے خود کو کور نہیں کیا ہوتا۔ اسی طرح بہت سی چیزیں ہیں جو اللہ نے اس دنیا میں بنائیں ان کے اثرات بھی ہیں تو وہ مخصوص اثرات ہوتے ہیں جو انسان پر عامل ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ نظرِبد تیر کی طرح حاسد سے نکل کر محسود کی طرف لگتے ہیں کبھی تو وہ بندہ ان تیروں کا شکار ہو جاتا ہے اور کبھی وہ تیر آر پار ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ تیر ایسے انسان جس نے عبادت کے زرہ نہیں پہنی ہوئی ہو تو وہ اس پر لگ جاتے ہیں کہ یہ انسان ایسا انسان نہیں جس نے اپنے قول اور عمل سے صبح اور شام کے اذکار کی حفاظت کی ہو۔

تو جو شخص صبح و شام کے اذکار کی حفاظت کرتے ہیں وہ اللہ کی حفاظت میں ہو جاتے ہیں۔ تو کوئی تیر آئے بھی تو وہ ختم ہو جاتے ہیں اور ایسا شخص نظرِ بد اور جادو جیسی چیزوں سے محفوظ رہتا ہے۔

اسی طرح ایک اور وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی مصیبت انسان پر آزمائش کے لئے آتی ہے کہ انسان کرتا کیا ہے۔

قرآن و سنّت کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کے ایسی کونسی علامات ہیں جن کو دیکھ کے یہ کہہ سکتے ہیں کے اس پر جادو ہے یا نظرِ بد ہے۔
(1) انسان اچانک دیوانوں والی حرکتیں کرنے لگ جاتا ہے۔ اچھا بھلا انسان گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔ وہ چیخ و پکار کرنے لگ جاتا ہے۔ ان حرکات سے اسے سر درد ہونے لگتا ہے جو عام حالت میں نہیں ہوتا۔
(2) شدید بیماری کا اچانک شکار ہو جانا۔
(3) چہرے پر دھبے اور چھائیاں پڑنا۔
(4) بچے کا بلاوجہ رونا یعنی بچہ کسی بھی طرح چپ نہیں کر رہا۔
نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ نظرِ بد برحق ہے۔ ایک دفعہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت ہیں حاضر ہوئی جس کا بچہ روئے جا رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے کیا اپنے بچے کو نظرِ بد کا دم نہیں کروایا۔ تو ماؤں کو بچے پالنے میں یہ دلیل لازمی دینی چاہیے کہ اگر مائیں دیکھیں کہ بچے میں غیر معمولی سی حرکات نظر آ رہی ہیں یعنی بلاوجہ کا رونا یا ضد کرنا تو وہ لازمی اپنے بچے پر نظرِ بد کا دم کروائیں۔
(5) بچوں کا سب کچھ کھاتے پیتے ہوئے بھی کمزور ہوجانا۔
(6) کسی کام میں دل نہ لگنا، نماز روزے سے دل اکتا جانا۔
(7) بچوں کا حافظہ کمزور ہونا۔
(8) بہت زیادہ پسینہ آنا اور پسینے کی بو کا بدل جانا۔
(9) نیند کا کم آنا۔
(10) خوفناک خواب آنا، جاگتے ہوئے بھی چیخ و پکار کی آوازیں آنا۔
(11) تنہائی اور علیحدگی پسند کرنا گھر والوں اور دوستوں سے بلاوجہ تعلقات خراب کرنا۔
(12) رونے کا زیادہ دل کرنا۔
یہ تمام بیماریوں کی علامات ہیں اور ان میں ذہنی، جسمانی اور روحانی سب ہی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی بیماری جسم میں آتی ہے اور روح تک پہنچ جاتی ہے یا کوئی بیماری روح میں آتی ہے اور وہ جسم تک پہنچ جاتی ہے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں