حضور دافع البلا ہیں

قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-(پ 9، الانفال: 33) ترجمہ: اللہ کہ یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ ایک اور جگہ ارشاد باری ہے: لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(۲۵) (پ 26، الذریت: 35) ترجمہ: اگر مسلمان مکہ سے نکل جائیں تو ہم کافروں پر عذاب بھیجتے۔ ان آیات مبارکہ میں فرمایا کہ دنیا پر عذاب نہ آنے کی وجہ حضور کا تشریف فرما ہونا ہے نیز مکہ والوں پر فتح مکہ سے پہلے اس لیے عذاب نہ آیا کہ وہاں کچھ غریب مسلمان تھے معلوم ہوا کہ انبیائے کرام اور مؤمنین کے طفیل سے عذاب الٰہی نہیں آتا یہ حضرات دافع البلاء ہیں بلکہ آج بھی ہمارے اس قدر گناہوں کے باوجود جو عذاب نہیں آتا یہ سب اس سبز گنبد کی برکت سے ہے۔ اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا:

تمہیں حاکم برایا، تمہیں قاسم عطایا تمہیں دافع بلایا تمہیں شافع خطایا

کوئی تم سا کون آیا

میرے آقا اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: سبحن اللہ ہمارے حضور دافع البلاء کفار پر سے بھی سبب دفر بلا ہیں اور مسلمانوں پر تو خاص رؤف و رحیم ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 30/379)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ہمیں نظر نہیں آتا مگر حضور ہر مصیبت کے وقت غمخواری فرماتے ہیں۔ (اطیب النعم، ص 4)

تڑپ کے غم کے مارو تم پکارو یا رسول اللہ تمہاری ہر مصیبت دیکھ نا دم میں ٹلی ہوگی

غلط فہمی کا ازالہ: 7 ویں صدی کے عظیم بزرگ امام تقی الدین سبکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور سے مدد مانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور خالق و فاعل مستقل یعنی اللہ پاک کے عطا کے بغیر مدد فرمانے والے ہیں یہ تو کوئی مسلمان ارادہ نہیں کرتا تو اس معنی پر کلام کو ڈھالنا یعنی حضور سے مدد مانگنے کو اللہ سے ملانا اور حضور سے مدد مانگنے کو منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اور مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔ (شفاء السقام، ص 175)

حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے منکر آج ان سے التجا نہ کرے

شرح کلام رضا: میرے آقا اعلیٰ حضرت اس شعر میں فرماتے ہیں: جو لوگ آج دنیا میں اللہ پاک کے پیاروں کو بے اختیار سمجھتے ہیں روز محشر ہم بھی ان کا خوب تماشا دیکھیں گے کہ کس طرح بے بسی اور بے چینی کے ساتھ انبیائے کرام کے پاک درباروں میں شفاعت کی بھیک لینے کے لیے دھکے کھا رہے ہوں گے مگر ناکامی کا منہ دیکھیں گے جبھی تو کہا جا رہا ہے:

آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے پھر نہ مانیں قیامت میں اگر مان گیا

شرح کلام رضا: یعنی آج اختیارات مصطفیٰ کا اعتراف کرلے اور ان کے دامن کرم کی پناہ میں آجا اور ان سے مدد مانگ اگر تو نے یہ ذہن بنالیا کہ سرکار مدینہ ﷺ اللہ پاک کی عطا سے بھی مدد نہیں کر سکتے تو یاد رکھ کل بروز قیامت جب اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی شان محبوبی ظاہر ہوگی اور تو اختیارات تسلیم کر لے گا اور شفاعت کی صورت میں مدد کی بھیک لینے دوڑے گا تو اس وقت سرکار نہیں مانیں گے کہ دنیا دار العمل یعنی عمل کی جگہ تھی اگر وہیں مان لیتا تو کام ہوجاتا اب ماننا کام نہ دے گا کیونکہ آخرت دار العمل نہیں دار الجزا یعنی دنیا میں جو عمل کیا اس کابدلہ ملنے کی جگہ ہے۔

بیٹھتے اٹھتے مدد کے واسطے یارسول اللہ کہا پھر تجھ کو کیا

خواب میں تشریف لا کر دلجوئی فرمائی: مکے مدینے کے تاجدار ﷺ اپنے غلاموں کے حالات سے کیسے خبردار ہیں اس ضمن میں امیر اہل سنت کے 1980ء کے سفر مدینہ کا ایک واقعہ پڑھئے اور جھومئے، چنانچہ سیدی قطب مدینہ رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید حاجی اسمعیل مرحوم بمبئی ہند کے رہنے والے تھے مدینہ پاک میں سالہا سال رہتے رہے انہوں نے عاشق مدینہ امیر اہل سنت کو بتایا کہ ایک بڑی عمر کی خاتون سنہری جالیوں کے سامنے حاضر ہو کر اپنے سادہ سے انداز میں بارگاہ رسالت میں سلام عرض کر رہی تھی اتنے میں ان کی نظر ساتھ کھڑی ایک خاتون پر پڑی جو ایک کتاب سے دیکھ دیکھ کر خوبصورت القابات سے بارگاہ رسالت میں سلام عرض کر رہی تھی بڑی بی یہ دیکھ کر اداس ہوکر کہنے لگی: یا رسول اللہ میں تو اتنی پڑھی لکھی نہیں ہوں آپ تو شاید اسی اچھے انداز سے پڑھنے والی خاتون ہی کا سلام قبول فرمائیں گے میرا سلام بھلا کیسے پسند آئے گا اتنا کہہ کر وہ غمزدہ ہو کر رونے لگی جب رات میں سوئی تو اس کی قسمت جاگ گئی اللہ پاک کی عطا سے دلوں کی بات جاننے والے غمخوار آقا ﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ارشاد فرمایا: مایوس کیوں ہوتی ہو؟ ہم نے تمہارا سلام سب سے پہلے قبول فرمایا ہے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں