سورۃ فاتحہ کا وظیفہ ہر قسم کی حاجت کے لیے

سورۃ فاتحہ کا وظیفہ ہر قسم کی حاجت کے لیے:

آج ہم آپ کوقرآنِ پاک کی سورۃ فاتحہ کا وظیفہ بتانے جا رہے ہیں۔ یہ وظیفہ ان بھائیوں اور بہنوں کے لیے ہے جن کی کوئی حاجت پوری نہ ہوئی ہے۔ یہ عمل خواتین گھر میں اور مرد حضرات مسجد میں کریں۔ یہ نہایت آسان عمل ہے۔ اس کو سجدے میں سر رکھ کر کرنا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی وہ حاجت اور مراد مانگنی ہے جس کے لیے آپ یہ عمل کرنے جا رہے ہیں۔ انشاء اللہ آپ کی ہر مراد اور ہر حاجت اس قرآنی وظیفہ کی بدولت اللہ پاک پوری فرمائے گا۔ اور اللہ آپ کے تمام دکھ درد غم دور کر دے گا۔اور جو جو اس وظیفہ کو یقین سے پڑھے گا اس کا انشاء اللہ ہر مسئلہ حل ہو جائے گا۔ حضور پاک ﷺ کی ایک حدیث کی رو سے یہ وظیفہ بتایا جا رہا ہے۔ اور یہ ایک قرآنی سورۃ کا بہت ہی طاقت ور وظیفہ ہے۔ اور اس عمل سے رزق کی بارش بھی ایسے ہوگی کہ آپ حیران رہ جائیں گا۔ اس طاقت ور وظیفہ کو جس بھائی اور بہن نے پڑھا ہے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان وظیفوں کو بیان کرنے کا مقصد صرف اور صرف انسانیت کی بھلائی ہے۔

اب ہم آتے ہیں سورۃ فاتحہ کے وظیفہ کی جانب۔ سورۃ فاتحہ میں سات آیات ہیں جن میں سے ساڑے تین آیاتیں اللہ کے لیے ہیں اور ساڑے تین بندے کے لیے ہیں۔ کتابوں میں ملتا ہے کہ ابلیس چار مرتبہ رویا تھا۔ اور اس نے آنسو بھی بہائے تھے۔ ایک اس وقت جب اس پر اللہ کی لعنت ہوئی اور دوسرا اس وقت جب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی اور تیسرا اس وقت جب حضور ﷺ کو نبی اور رسول بنایا گیا اور چوتھا اس وقت جب سورۃ فاتحہ نازل ہوئی۔ یہ سورۃ ابلیس کی راہ میں بہت بڑی روکاوٹ ہے۔ کیونکہ سورۃ فاتحہ کی دعا سب سے زیادہ عمدہ اور نفع بخش قرار پائی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بندے کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دے اور اس کو اپنی بندگی پر اور گناہوں کے چھوڑنے پر مدد کر دے تو دنیا اور آخرت میں کسی قسم کی برائی نہیں چھو سکتی۔

اللہ پاک فرماتے ہیں کہ جب بندہ الحمدُ للہ رب العالمین کہتا ہے تو اللہ پاک فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثناء بیان کی۔ جب بندہ الرحمنِ الرحیم کہتا ہے تو اللہ پاک فرماتا ہے کہ بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب بندہ ایاک نعبدُ وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ میرے اور بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے۔ قرآن پاک میں سب سے پہلے سورۃ فاتحہ ہی لکھی گئی ہے۔ اور نماز میں قراء ت بھی اسی سے شروع ہوتی ہے۔ اس سورۃ کے بہت سے نام بیان ہوئے ہیں جن میں سے ایک نام اُم الکتاب بھی ہے۔ اور اس کا ایک نام سورۃ الشفاء بھی ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ سورۃ ہر مسئلے کا حل ہے۔ اور ہر بیماری کا علاج اور دواہے۔

اگر آپ کو کوئی بھی مسئلہ ہو یا آپ نے کوئی بھی جائز مراد مانگنی ہے تو ہر نماز کے بعد خواتین گھر میں اور مرد حضرات مسجد میں کریں۔ اس عمل کوسجدے میں سر رکھ کر اس طریقہ سے پڑھیں کہ جب ایاکَ نعبدُ وایاکَ نستعین پر پہنچیں تو اس کو 21مرتبہ پڑھیں اور سورۃ کو مکمل پڑھ کر سجدے سے سر اٹھا لیں۔ اس کے بعد آپ نے اللہ تعالیٰ سے وہ مراد اور حاجت مانگنی ہے جس کے لیے یہ عمل کر رہے ہیں۔ انشاء اللہ آپ کی ہر دعا اور ہر دلی مراد فوراً قبول ہو جائے گی۔ میرے بھائیو اور بہنوں جب ہم مصیبتوں میں پھنس جائیں مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں تو سجدوں کے ذریعے ہی اپنے رب کو راضی کیجیے۔ سجدہ ہر پریشانی کا علاج ہے۔ سجدہ ایسی عبادت ہے جس پر ساری کائنات کا اتفاق ہے۔ آپ اس عمل کو کر کے اپنی آنکھوں سے اس کا کمال دیکھیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ بندہ سجدے میں اللہ پاک کے قریب ترین حالت میں ہوتا ہے اس لیے سجدے میں کثرت سے دعا کیا کرو۔ انسان اپنے چھوٹے سے سجدے کی وجہ سے آسمان کی بلندیوں اور وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ عمل دن میں یا رات میں کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔ انشاء اللہ آپ کی ہر حاجت پوری ہوگی۔ مقصد کے حصول تک یہ عمل جاری رکھیں۔

علامہ امام ابنِ قیَّم کا عمل بھی نوٹ کر لیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ کے جسم پر کہیں بھی درد ہے تو وہاں پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ یہ سورۃ پڑھ کر پھونک مار دیں۔ یہ عمل دن میں دو تین مرتبہ کریں۔ اور اول اور آخر میں درود شریف بھی ضرور پڑھیں۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں