سورۃ لہب کاعمل۔ دشمن کی زبان بندی کا وظیفہ

سورۃ لہب کاعمل۔ دشمن کی زبان بندی کا وظیفہ:

خواتین و حضرات آج ہم جو عمل آپ کو بتانے جا رہے ہیں وہ بہت زیادہ مجرب اور خاص الخا ص ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے بھائیوں، بہنوں اور بیٹیوں کو کوئی انسان پریشان کرنا شروع کردیتا ہے اور وہ جان و مال کا دشمن بن جاتا ہے۔ اور جینا دوبھر کر دیتا ہے۔اور کبھی وہ جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیتا ہے اور انسان عدالتوں کے چکر لگا لگا کرتنگ آجاتے ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا۔ اور سمجھ میں نہیں آتا کہ اس سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ ہمارے پاس قرآنِ کریم موجود ہے جو تمام عدالتوں سے اوپر ہے اور اس سے تمام انسانوں کو انصاف ملتا ہے۔ دنیا کے معاملات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ غریبوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ پیسے والے پیسے سے اپنی مرضی کا انصاف خرید لیتے ہیں۔ اور غریب ظلم و ستم برداشت کرتے ہیں۔

آج جس سورۃ کے بارے میں آپ کو بتانے جا رہے ہیں وہ ایسی سورۃ ہے کہ جو آپ کو دشمن سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یہ عمل زبان درازساس، نند، ظالم شوہر کو راہِ راست پر لانے کے لیے بہت عجیب عمل ہے۔ اس سلسلے میں ایک سچا واقعہ سنانے جا رہا ہوں تاکہ اسے سن کے آپ بھی اپنے آپ کو کامیاب اور کوخوشحال بناسکیں۔ پیارے آقا حضرت محمد ﷺ پر جب دشمنوں کا وار تھا اور آپ کے خلاف بہت زیادہ باتیں کرتے تھے بلکہ آپ ﷺ سے دشمنی کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ لہب کو نازل کیا۔ تاکہ وہ اس کو پڑھ کے دشمنوں کے شر سے محفوظ ہوسکیں۔ سورۃ لہب صرف دشمنوں کے لیے نہیں ہے بلکہ دین کے دشمنوں کی ہلاکت کے لیے بھی بہت کارگر ہے۔ اسی سورۃ کا بہت ہی آزمایا ہوا وظیفہ ہے۔ سورۃ لہب قرآنِ پاک کے آخری سپارے میں ہے۔ اس کا وظیفہ کرنے سے شیطان بھی آپ سے کوسوں دور بھاگ جائے گا۔

اس عمل کا طریقہ یہ ہے کہ اول آخر تین تین بار درود شریف پڑھنا ہے اور درمیان میں 21مرتبہ سورۃ لہب پڑھنی ہے۔ اس عمل کو کرنے کے لیے وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے جب بھی فرصت ملے کر سکتے ہیں۔ یہ عمل کرنے کے بعد آپ اللہ تعالیٰ سے اپنے دشمنوں کی ہدایت کے لیے دیا کریں۔ تو اللہ پاک انشاء اللہ وتعالیٰ آپ کی دعا کو ضرور سنے گا۔اس سورۃ کا واسطہ دیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو دشمنوں کے شر سے ضرور بچائے گا۔ اور ان کے شر سے محفوظ فرمائے گا۔اور یہ سورۃ دشمن کے پاس پڑھ کر جائیں تو وہ آپ کو ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا۔ آ پ اس سورۃ کو روزانہ پڑھنے کا معمول بنا لیں۔دشمن کی زبان آپ کے خلاف بولنے سے بند ہوجائے گی۔ اس سورۃ کے پڑھنے سے رزق میں بھی برکت ہوتی ہے اور آپ کو زندگی کے ہر موڑ پر فائدہ ہوگا۔ یہ عمل دشمنوں کو زیر کرنے والا ہے۔

اس سلسلے میں ایک واقعہ آپ کو سناتے ہیں تاکہ آپ اپنے آپ کو خوشحال اور کامیاب بناسکیں۔ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے ایک حکایت بیان کی ہے۔ جس کو مولانا رومی ؒ نے نقل فرمایا ہے۔ ایک مرتبہ چینیوں اور رومیوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ رومیوں نے کہا کہ ہم اچھے سنا اور کاریگر ہیں اور چینیوں نے کہ نہیں ہم اچھے ہیں۔ بادشاہ کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا۔بادشاہ نے کہا کہ تم اپنی اپنی سنائی دکھاؤ پھر دونوں کی کاریگری کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ اور اس کی یہ صورت رکھی گئی کہ بادشاہ نے ایک مکان بنوایا اور اس کے درمیان پردے کی ایک دیوار کھڑی کردی۔ چینیوں سے کہا کہ نصف مکان میں تم اپنی کاریگری دکھاؤ نصف میں رومی اپنی کاریگری کا نمونہ پیش کریں گے۔ چینیوں نے دیواروں پر پلستر کرے طرح طرح کے خوبصورت پھول اور بیل بوٹے بنائے اور اپنے حصے کو رنگا رنگ نقش ونگار بنا کر گل و گلزار بنا دیا۔ دوسری طرف رومیوں اپنی طرف کی دیوار پر پلستر کرکے ایک بھی بیل بوٹا نہیں بنایا۔اور نہ ہی کوئی رنگ لگایا۔ بلکہ دیوار کے پلستر کو چمکانا شروع کر دیا اور اس کو اتنا چمکایاکہ اس میں آئنہ کی طرح صورت نظر آنے لگی۔ جب دونوں نے اپنی اپنی کاریگری ختم کرلی تو بادشاہ کو اطلاع دی گئی۔ بادشاہ آیا تو اس نے حکم دیا کہ درمیا ن پردہ یا دیوار نکال دی جائے۔ جیسے ہی وہ دیوار درمیان ہٹی تو چینیوں کے نقاشی رومیوں کی دیوار پر نظر آنے لگی۔ اور وہ تمام بیل بوٹے رومیوں کی دیوار پر منعکس ہونے لگے۔ جسے رومیوں نے سیقل کر کے آئنہ بنایا تھا۔ بادشاہ سخت حیران و پریشان ہوا کہ کس کے حق میں فیصلہ دے کیونکہ دونوں طرف ایک ہی قسم کے نقش و نگار نظر آرہے تھے۔ آخر کا رومیوں کے حق میں فیصلہ دیا کہ ان کی کاریگری اور سنائی اعلیٰ ہے۔ کیونکہ انھوں نے ایک تو اپنی کاریگری بھی دکھلائی اور چینیوں کے کاریگری بھی چھین لی۔ مولانا روم نے یہ قصہ نقل کرکے بطور نصیحت فرمایا کہ اے عزیزو تم اپنے دلوں پر رومیوں کی سنائی جاری رکھ لے۔ اپنے کل کو ریاضت اور مجاہدہ سے مانجھ کر اتنا صاف کرلے کہ تجھے گھر بیٹھے ہی دنیا کے سارے نقش و نگار نظر آنے لگیں۔ اپنے دل کی کھڑکی کو کھول کر اس کو میل کچیل نکال کر اس کو اسمِ الٰہی سے منور کر لے تو تجھے دنیا کے حقائق و معارف گھر بیٹھے ہی نظر آنے لگیں گے۔ کینہ حسدبغض یہ دل کی بیماریاں ہیں ان کے ہوتے ہوئے بندہ حلم و حلاوت و عبادت سے محروم رہتا ہے۔ کسی اللہ والے کی صحبت اختیار کرکے اپنے دل کو صاف بنایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم کرے اور ہم سب کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔آمین یا رب العالمین۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں