محرم کے مہینے میں کرنے والے کام

محرم کے مہینے کو شہرُاللہ کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں اللہ کا مہینہ۔ اس مہینے کو محرم الحرام بھی کہا جاتا ہے۔ اس مہینے میں بہت سے ایسے کام حرام کیے گئے ہیں جو ایک مسلمان نہیں کرتا یا جس کا کرنا اس کے لیے حرام میں آتا ہے۔اس مہینے کی تعظیم کی وجہ سے اس کو اللہ کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ اس سے اس مہینے کی اہمیت کا پتا چلتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابو حریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں اس لیے اس مہینے کی خاص عبادت روزے ہیں۔عشرہ ذوالحج میں توپہلے 9دن کے روزے تھے لیکن اس مہینے میں لازم نہیں کہ پورے مہینے کے روزے رکھیں جیسے رمضان میں رکھے جاتے ہیں جب بھی آپ چاہیں روزے رکھ سکتے ہیں لیکن 10محرم کے روزے کی خاص فضیلت ہے۔ محرم کے مہینے کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ عزمت اور برکت والا اور حرمت والا ہے۔

حسن بصری ؒ کہتے ہیں کہ بے شک اللہ پاک نے سال ابتدا بھی حرمت والے مہینے سے کی اور اختتام بھی حرمت والے مہینے سے کیا۔پورے سال میں رمضان سے بڑھ کر محرم کے علاوہ حرمت والا کوئی مہینہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے شروع میں اور آخر میں حرمت والے مہینے ہوں تو درمیان والے مہینوں میں بھی حرمت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔یعنی جس کام کے آغاز پر اور اختتام پر خصوصی ہدایات دی جائیں اور خصوضاً روزے وغیرہ جیسی عبادت کی طرف متوجہ کیا جائے تو سال بھی اس کی عادت اپنا لینی چائیے۔ نئے سال کا آغاز دعا سے کرنا چاہیے۔ عبداللہ بن حشامؓ سے روایت ہے کہ جب مہینہ یا سال آتا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ یہ دعا اس طرح سیکھتے جیسے قرآن سیکھتے تھے۔ اس دعا کا مطلب یہ ہے: اے اللہ اس مہینے کو اور اس سال کو ہمارے اوپرامن اور ایمان سلامتی اور اسلام کے ساتھ شیطان سے بچاؤ اور رحمان کی رضامندی کے ساتھ داخل فرما:

محرم کا مہینہ چونکہ حرمت والا مہینہ ہے اس لئے اس مہینے میں آپس میں ظلم کی ممانعت ہے۔قرآن ِ پاک میں آتا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ: بشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہیں جس دن سے اس نے آسمانوں او ر زمین کو پیدا کیا۔ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ ہی سیدھا دین ہے۔ سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو: ظلم کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔ کسی کا حق نہیں چھیننا، کسی کا حق مارنا، کسی کو اس کے حق سے محروم کردینا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باقی مہینوں میں ظلم کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں ظلم کرنا بہت بڑا گناہ اور بہت بڑا بوجھ ہے۔اگرچہ ظلم ہر حال میں بہت بڑا گناہ ہے۔ بے شک اللہ جس ظلم کے کام کے گناہ کو بڑھا دے جیسے نیک کام کے اجر کو بڑھا دے۔ جیسے عام دنوں کی نسبت صدقہ اور خیرات کا ثواب ذوالحج اور محرالحرام میں کئی گناہ بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح حرمت والے مہینوں میں ظلم کا گناہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ چار مہینے اسی لیے رکھے گئے ہیں اور ان کی شدت کا احساس دلایا گیاکہ لوگ ان مہینوں میں زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں اور ظلم والے اور گناہوں والے کاموں سے باز رہیں تاکہ باقی سال بھی وہ ان کاموں پر عمل کر سکیں۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں