ٹیکنالوجی سے انسان کی زندگی بہتر ہوئی یا پریشانی میں اضافہ ہوا؟

بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ عصر حاضر کی جدید ٹیکنالوجی نے انسان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں، تاہم یہ ایک غلط خیال ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دماغی صحت اور انسانی جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جن سے بچنا محال ہوجاتا ہے، خاص طورپر اس کا مسلسل استعمال اور روز مرہ کے کاموں میں اس پر انحصار کرنا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹیکنالوجی نے واقعی آپ کی زندگی کو بہتر بنایا ہے؟

ٹیکنالوجی کے نفسیات پر اثرات
ٹیکنالوجی کا مسلسل استعمال اور اس پر مکمل انحصار کرنے سے نفسیات پر جلد یا بدیر نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں سے چند کی مثال ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

تنہائی
اگرچہ جدید سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو دیکھیں تو اس سے فاصلے تو سمٹ گئے ہیں اور باہمی روابط بھی بہتر ہو گئے ہیں تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اس حوالے سے 19 سے 32 برس کے افراد پر ایک ریسرچ کی گئی جس میں یہ ثابت ہوا کہ جو افراد سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے مسلسل جڑے رہتے ہیں وہ ان کے مقابلے میں جو اس کا کثرت سے استعمال نہیں کرتے، تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مسلسل سوشل میڈیا سے منسلک رہنے والے 73 فیصد افراد نے تصدیق کی کہ وہ عملی طور پر سماجی زندگی میں تنہائی کا شکار ہیں۔

پریشانی و ڈپریشن
ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ افراد جو مسلسل سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے منسلک ہوتے ہیں ان میں ذہنی مسائل بڑھ جاتے ہیں جیسے بے چینی اور ڈپریشن وغیرہ۔

ماہرین نے اس حوالے سے مختلف نتائج بھی پیش کیے ہیں جن میں ایسے افراد جنہیں سماجی ویب سائٹس پر مثبت رویہ اور حوصلہ افزائی ملتی ہے ان میں پریشانی اور ڈپریشن کافی کم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جنہیں سوشل نیٹ ورک پر حوصلہ افزائی کا سامنا نہیں ہوتا ان میں ڈپریشن کافی زیادہ ہوتا ہے۔

ڈیجیٹل ڈیمنشیا
کچھ لوگ ٹیکنالوجی کی کثرت استعمال سے ڈیجیٹل ڈیمنشیا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس طرح انہیں معلومات پر توجہ مرکوز کرنے یا یاد رکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سائبر کونڈریا ’الیکٹرانک ہائپوکونڈریا‘
اس سے مراد حد سے زیادہ پریشانی جو کسی بھی شخص کو اس کی صحت کے بارے میں پریشانی میں مبتلا کر سکتی ہے وہ یہ کہ آن لائن اپنے طبی مسائل کے بارے میں دریافت کرنے سے صحت کے حوالے سے بے چینی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سے بھی ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

انٹرنیٹ کے استعمال کی عادت
بعض افراد اس قدر انٹرنیٹ کے استعمال کے عادی ہو جاتے ہیں کہ وہ ایک طرح سے اس کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں جس سے ان کے سماجی راوبط ہی نہیں بلکہ کام بھی متاثر ہوتا ہے۔

احساس کمتری اور خود اعتمادی کا فقدان
اس حوالے سے کی گئی ایک تحقیق، جو ’جے اے ایم اے‘ میگزین میں شائع ہوئی، میں کہا گیا ہے کہ وہ نوجوان جو یومیہ تین گھنٹے سے زیادہ وقت سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گزارتے ہیں ان میں خود اعتمادی کی کمی اور احساس محرومی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ذہنی انتشار اور اضطراری عمل
اگرآپ آن لائن گیمز یا سمارٹ فون سرفنگ میں کافی وقت گزارتے ہیں تو اس صورت میں ذہنی انتشار جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زندگی میں دیگر مسائل بھی پیش آ سکتے ہیں اور آپ کے پیشہ ورانہ شب روز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

توجہ کا فقدان
تاہم یہ بات حتمی نہیں کہ انٹرنیٹ کے زیادہ استعمال سے پریشانی اور بے چینی میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے، تاہم جدید تحقیق میں توجہ کے فقدان کا بڑا سبب انٹرنیٹ پر زیادہ دیر گزارنے کو قرار دیا گیا ہے۔

نیند کی مشکلات
بعض افراد کی یہ عادت بن جاتی ہے کہ وہ سوتے وقت اپنے ساتھ موبائل فون رکھ لیتے ہیں۔ ان کو گمان ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی میسج آئے گا یا فیس بک پر کوئی اپ ڈیٹ ہی آ سکتی ہے۔ بعض اوقات ان کا یہ عمل لاشعوری طور پر بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی نیند پرسکون نہیں ہوتی اور وہ سوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر اضطراب کا شکار رہتے ہیں۔

نیند میں دشواری کا دوسرا سبب ’بلو ریز‘ یعنی نیلی روشنی ہوتی ہے جو سمارٹ فون کی سکرین سے خارج ہوتی ہے۔ یہ بھی نیند میں دشواری کا باعث ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے میلاٹوئین نامی ہارمونز کا اخراج متاثر ہوتا ہے اور یہ شعاعیں جسمانی اعضا کو بھی متاثر کرنے کا سبب ہو سکتی ہیں۔

ایک مطالعے کے مطابق گذشتہ 50 برسوں سے بالغ افراد کی نیند کا اوسط دورانیہ آٹھ گھنٹے ہوتا ہے جس میں اب کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور آج کے وقت میں یہ سات گھنٹے ہو گیا ہے اور یہ عمل یقینی طور پر جسمانی صحت پر اثرانداز ہوتا ہے۔

جسم پر ٹیکنالوجی کے اثرات
صرف نفسیاتی صحت ہی ٹیکنالوجی کے مضر اثرات کی زد میں نہیں رہتی بلکہ جسمانی صحت کو بھی اس جدید ٹیکنالوجی کے غیرضروری استعمال سے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ اس بارے میں بعض مثالیں ذیل میں دی جا رہی ہیں جو جسمانی صحت کے حوالے سے ہیں۔

1 ۔ آنکھوں پر دباؤ
سمارٹ فونز، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر کا مسلسل استعمال کرنے والوں کو آنکھوں میں جلن، خشکی اور دباؤ کے علاوہ سر، گردن اور کندھوں میں درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے آنکھوں پر پڑنے والے دباؤ کے بعض عوامل کی ذیل میں نشاندہی کی جا رہی ہے۔
۔ وہ وقت جو سکرین کے سامنے گزارتے ہیں
۔ سکرین کی تیز روشنی
۔ آنکھوں سے سکرین کا غیرمناسب فاصلہ
۔ آنکھوں کے مسائل کا پہلے سے شکار ہونا
اس لیے آنکھوں پر ٹیکنالوجی کے استعمال کے دباؤ کو کم کرنے اور انہیں بار بار ہونے والی تکلیف سے بچانے کے لیے بیس بیس کی مشق پر عمل کیا جانا چاہیے۔ یہ مشق خاص طور پر ان لوگوں کے لیے کارآمد ہوتی ہے جو طویل دورانیہ تک سمارٹ ڈیوائسز کا استعمال کرتے ہیں۔

2 ۔ غلط نشست
اکثر لوگ سکرین کے سامنے غلط طریقے سے بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیشتر افراد کے کمپیوٹر کی سکرین نیچے کی جانب ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
بہتر ہے کہ وہ افراد جو زیادہ دیر تک ڈیسک پر بیٹھ کر کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں وہ ہر تھوڑی دیر بعد اٹھ جائیں اور اعضا کو حرکت دیں تاکہ جسم پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔

3 ۔ جسمانی حرکت یا عمل میں کمی
یہاں خطرے کی گھنٹی آپ کو متنبہ کرتی ہے کیونکہ زیادہ دیر تک بغیر جسمانی حرکت کے ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے مختلف نوعیت کی جسمانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن میں موٹاپا، دل اور شریانوں کے امراض اور شوگریا دوسرے درجے کی ذیابیطیس شامل ہے۔

ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کس طرح اپنی نفسیاتی اور جسمانی صحت کو برقرار رکھا جائے؟
جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کا مقابلہ دانش مندی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ذیل میں چند تجاویز بیان کی جا رہی ہیں۔

۔ ایسی کسی بھی ایپلی کیشن اور دوستوں کو ڈیلیٹ کر دیں جن سے رابطے پر آپ کو اداسی کا سامنا کرنا پڑے۔
۔ ای میل پر ایسی اپ ڈیٹس کو بلاک کر دیں جو آپ کے لیے غیرضروری ہوں، جتنی کم میلز ہوں گی اتنا ہی بہتر ہو گا۔
۔ نوٹیفکیشن ساؤنڈ کو آف کر دیں جب آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو۔
۔ دن کا کچھ وقت ڈیجیٹل ڈیوائسز سے دور رہیں۔
۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل اپنی تمام ڈیجیٹل ڈیوائسز کو آف کر دیں جس سے آپ پرسکون نیند حاصل کر سکیں گے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں