پاکستان کا تعلیمی نظام یورپ کے مقابلے میں اتنا کمزور کیوں، اہم انکشافات سامنے آگئے

پاکستان میں کُل 220 سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں جس میں 2ملین سے زیادہ بچے ہر سال تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ (ہائر ایجوکیشن کمیشن) کے چیئر پرسن طارق بنوری نے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان کے تعلیمی نظام کی عکاسی کی ہے۔ ان کے مطابق ڈگری ایسی ہونی چاہیے جو طلباء کی عکاسی کرے کہ طلباء میں درج ذیل خصوصیات ہوں جن پر ڈگری مشتمل ہو۔ اگر بچے میں یہ خصوصیات ظاہر نہ ہوں تو ڈگری ایک جعلی کرنسی کی طرح ہوجاتی ہے۔پاکستان کا تعلیمی نظام یورپ کے مقابلے میں اتنا کمزور کیوں، اہم انکشافات سامنے آگئے

طارق بنوری نے میڈیا سے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈگری کی طرف دیکھا جائے تو یہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے محض جیسے ہمارا کرنسی نوٹ ہوتا ہے۔ لیکن کرنسی نوٹ کا ہمیں پتا ہے اگر ہم یہ نوٹ لے کے دکاندار کے پاس جائیں تو وہ اسے قبول کرکے ہمیں اس کے عوض ہماری مطلوبہ چیز دے دے گا۔ اس بات کو کرنے کا مقصد ہے کہ معاشرے میں کرنسی نوٹ کی یہ جنرل قبولیت ہے۔ اگر یہ خصوصیت کرنسی نوٹ میں ختم ہوجائے تو اسکی سوسائٹی میں اور ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رہتی۔

طارق بنوری نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ایسے ہی ہماری ڈگری ہے اگر ہم نے بنیادی چیز ہی نہیں سیکھی ڈگری میں تو یہ ایسے ہی فضول ہے جیسے جعلی کرنسی نوٹ۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسی کئی یونیورسٹیز ہیں جن کی ڈگری کو کوئی ادارہ نہیں مانتا سوائے کچھ گورنمنٹ اداروں کے۔ طلباء کا جب انٹرویو لیا تو انھیں کچھ نہیں آیا۔ یہ تو بیسک کنسیپٹ بھی نہیں جانتے۔

اس پر طارق بنوری نے کہا کہ ہم لوگ اس بات پر بھی توجہ نہیں دیتے کہ استاد کی اصلاح کیسے کرنی ہے۔ استاد کو یہ کیسے سکھائیں کہ یہ چیز کیسے پڑھانی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ سب کافی کمزورزمرے میں آتا ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ سٹوڈنٹس کو بھی یہ بات نہیں بولی جاتی کہ جب تک آپ سمجھیں گے نہیں پڑھیں گے نہیں آپ کو ڈگری نہیں ملے گی۔
طارق بنوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بولا کہ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ طلباء کو کیا پڑھانا چاہیئے جسے ہم عام زبان میں نصاب کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر اگر آپنے کسی کو ڈاکٹر بنانا ہے تو آپ کو اسے اس طرح پڑھانا چاہیے کہ اسے جسم کے تمام حصوں کے بارے میں مکمل جانکاری ہو اور ساتھ ہی ساتھ دوا ء اور علاج بھی آئے۔ تو ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ بچے کو یہ تمام چیزیں پڑھائی جائیں۔

طارق بنوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ آیا طلباء کو کس طرح کی تعلیم دی جارہی ہے آیا کہ یہ وقت کے ساتھ جدید ہوگئی ہے یا وہی پرانی دی جارہی ہے۔ کیونکہ سائنس تو بہت تیزی آگے جارہی ہے ہر دن نئی نئی دریافت ہو رہی ہیں تو آیا بچے اسی لحاظ سے تعلیم لے رہے ہیں کہ نہیں۔ طارق بنوری نے مزید بتایا کہ تیسرا اہم مسئلہ جوہمارے تعلیمی نظام میں ہے وہ ہے بنیادی تعلیمی طریقے جو کہ ہر طلباء کا بنیادی حق ہے کہ اسے مکمل طور پر یہ بات سکھائی جائے کہ جو نصاب اس نے چنا ہے اس میں مہارت کیسے حاصل کرنی ہے اور یہ چیز کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری استاد پر آتی ہے کہ وہ طلباء کو اپنے مضمون میں ماہر ہونا سکھا ئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگربچہ صحیح سے پڑھ نہیں رہا تو کہیں نہ کہیں غلطی پروفیسر کی اپنی صلاحیتوں کی ہوتی ہے کہ پروفیسراپنا علم اپنے طلباء میں صحیح سے منتقل نہیں کر رہا ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ جو چھوٹی 4چیزیں ہیں وہ یہ ہیں کہ ہمیں طلباء کو یہ سکھانا ہوتا ہے کہ وہ واقعی تعلیم حاصل کریں کیونکہ یہ ضروری ہے اور اس میں تمام چیزیں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

طارق بنوری نے میڈیا کہ بتایا کہ انھوں نے کئی ملکوں میں پڑھایا ہے اور باہر کے ملک والے جب پروفیسر مقرر کرتے ہیں تو کئی انٹرویوز ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایک ہی دن میں 20 سے 30 انٹرویوز ہوتے ہیں۔ جس میں یہ بنیادی چیز دیکھی جاتی ہے کہ استاد کو مضمون آتا ہے اور پڑھانا آتا ہے یہ چیز نہیں دیکھی جاتی کہ پروفیسر کو وقت کے ساتھ پڑھانا آئے کیونکہ علم تو ہر روز وسیع ہو رہا ہے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں