10-9محرم کے روزے کی فضیلت

10-9محرم کے روزے کی فضیلت:

آج ہم آپ کو 10-9 محرم کے روزے رکھنے کی فضیلیت کے بارے میں بتائیں گے۔ ہمارے پیارے آقا آنحضرت محمد مصطفےٰ ﷺ جب مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو اس وقت یہود بھی مدینہ میں موجود تھے۔ ان کو فوری طور پر مدینہ سے نہیں نکالا گیا تھا۔ آپ ﷺنے وہاں ملاحظہ فرمایا کہ یہود 10محرم الحرام کا روزہ رکھتے ہیں۔تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم اتنے اہتمام کے ساتھ یہ روزہ کیوں رکھتے ہو۔ تو انھوں نے عرض کیا کہ یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرعون کی قوم کو غرق کیا اور موسیٰؑ اور ان کی قوم کو ان کے شر سے نجات عطا فرمائی۔تو موسیٰؑ نے اس نجات کے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا تھا۔تو ہم بھی ان کی پیروی میں روزہ رکھتے چلے آرہے ہیں۔

جب آپ ﷺ نے یہ بات سماعت فرمائی تو آپ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ موسیٰؑ کی موافقت اختیار کرنے میں یہود کے مقابلے میں ہم ان سے زیادہ قریب ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو 10محرم کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ تو کسی نے عرض کیا کہ اگر ہم 10محرم الحرام کا روزہ رکھیں گے تو کیا یہ یہود سے مشابہت نہیں ہوجائے گی۔تو آپ نے فرمایا تو 9یا 11کا روزہ بھی ملا لو۔ یعنی ایک دن کا اور روزہ ملا لو۔ تو گویا یہ حضرت موسیٰؑ کی سنت بھی ہے اور ہمارے حضور ﷺ نے خود بھی 9اور 10کاروزہ رکھا اور ان کے صحابہ نے بھی رکھا۔ اس لیے ہمارے حضور ﷺ کی اور صحابہ کی سنت بھی قرار پائی۔

کسی دوسری قوم سے مشابہت نہ ہو جائے اس لیے 9یا 11محرم کا روزہ بھی رکھنا چاہیے۔ اور اس روزے کے بارے میں رحمتِ کونین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ملتا ہے کہ جس نے 10محرم الحرام کا روزہ رکھا یہ اس کے ایک سال کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔اس سے بڑی فضیلت اس دن کی اور کیا ہوگی کہ پورے ایک سال کے پچھلے گناہ اللہ پاک معاف فرما دیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے گھر میں اور دوسرے دوستوں اور ملنے جلنے والوں کا ذہن بنائیں کہ وہ بھی ان دنوں کا روزہ رکھیں دوسرے ہمارے ہاں یہ سہولت بھی ہے کہ یہا ں پر 9 اور 10محرم الحرام کی چھٹی بھی ہوتی ہے اس لیے ہمیں روزے رکھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ اور ایک بہت بڑی فضیلت حاصل ہو سکتی ہے۔

Spread the love

اپنا تبصرہ بھیجیں